صارم نور اور منہاج القرآن

صارم نور کے منہاج القرآن کے ساتھ تعلق پر ایک قریبی نظر — یہ کیسے شروع ہوا، انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا، اور یہ ان کی زندگی کا ایک اہم ترین حصہ کیوں ہے۔

منہاج القرآن کے ساتھ میرا سفر

ایک انجانی شخصیت سے ایک غیر معمولی سفر تک

آج مجھے صدر منہاج یوتھ لیگ کراچی کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ منہاج یوتھ لیگ، تحریک منہاج القرآن کا نوجوانوں کے لیے قائم کردہ پلیٹ فارم ہے۔ آج جب میں اس مقام پر کھڑا ہو کر اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو خود مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ سفر کہاں سے شروع ہوا، کن مراحل سے گزرا اور کس طرح مجھے یہاں تک لے آیا۔

یہ سفر کسی تنظیمی رکنیت یا منہاج القرآن کے کسی کارکن کی مسلسل دعوت سے شروع نہیں ہوا تھا۔ منہاج القرآن کے کسی تنظیمی فرد نے مجھے تحریک میں شامل ہونے کے لیے قائل نہیں کیا، نہ کوئی مجھے مسلسل محافل میں لے جاتا رہا اور نہ کسی نے مجھے تنظیمی طور پر تحریک میں شامل کروایا۔

البتہ اس سفر میں میرے استاد جی کا کردار فیصلہ کن تھا، جنہوں نے ایک موقع پر مجھے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کی ایک کتاب اور دو خطابات کی سی ڈیز دیں اور انہیں پڑھنے اور سننے کو کہا۔

حقیقت یہ ہے کہ 2013 تک میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کو باقاعدہ جانتا تک نہیں تھا۔

اور شاید یہی بات میرے اس پورے سفر کو میرے لیے مزید غیر معمولی بناتی ہے۔


دینی اور روحانی تلاش کا آغاز

تقریباً 2012–2013 کے دوران میری زندگی اور سوچ میں ایک نمایاں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

میں ایک عام نوجوان کی طرح اپنی زندگی گزار رہا تھا، لیکن رفتہ رفتہ میرے اندر دین کی طرف رغبت بڑھنے لگی۔ عبادات، دینی ماحول اور دین کو سمجھنے کی خواہش میں اضافہ ہونے لگا۔

یہ تبدیلی صرف سوچ تک محدود نہیں رہی بلکہ میرے رہن سہن اور ظاہری انداز میں بھی نمایاں ہونے لگی۔ میں نے شلوار قمیص پہننا شروع کردی، پینٹ شرٹ تقریباً چھوڑ دی، ٹوپی پہننے لگا اور مختلف دینی و دعوتی ماحول میں جانا شروع کردیا۔

میں مختلف دینی حلقوں کے ساتھ وقت گزارتا رہا، ان کی مجالس میں شریک ہوا اور اپنے طور پر دین کے قریب ہونے کی کوشش کرتا رہا۔

یہ تمام مراحل میری تربیت اور تبدیلی میں اپنا کردار ادا کررہے تھے، لیکن اس سب کے باوجود میرے اندر کہیں نہ کہیں ایک تلاش باقی تھی۔

میں دین کے قریب تو جارہا تھا، مگر وہ فکری اور روحانی اطمینان ابھی نہیں ملا تھا جس کی شاید میرے اندر تلاش جاری تھی۔


’’مجھے ان کی سمجھ نہیں آتی‘‘

2014 میں ربیع الاول کے ایام کے دوران میں تین دن کے ایک دینی و تبلیغی سفر پر گیا۔

اسی سفر کے دوران ایک صبح مجھے اپنی کچھ ذاتی استعمال کی چیزیں خریدنے کے لیے باہر جانا پڑا۔ میرے ساتھ وہاں بننے والا ایک دوست بھی تھا۔

راستے میں میری نظر ایک رکشے پر لگے پوسٹر پر پڑی جس پر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کی تصویر اور اس دور کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے مواد موجود تھا۔

میں نے ان کی تصویر دیکھی اور بے ساختہ کہا:

’’مجھے ان کی سمجھ نہیں آتی۔‘‘

اس وقت میرے لیے یہ محض ایک عام سا جملہ تھا۔

لیکن آج، اتنے برس گزرنے کے بعد، جب میں اپنے پورے سفر کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہی جملہ میرے لیے بہت مختلف معنی رکھتا ہے۔

میں کبھی کبھی خود سے سوال کرتا ہوں:

میں آخر منہاج القرآن تک پہنچا کیسے؟

کیونکہ مجھے یہاں تک لانے کے لیے کوئی منہاج القرآن کا کارکن میرے پیچھے نہیں لگا تھا۔ کوئی مجھے مسلسل تحریک کے بارے میں نہیں بتاتا تھا اور نہ کوئی مجھے بار بار محافل میں لے جاتا تھا۔

اسی لیے آج اپنے ذاتی روحانی احساس اور وجدان کی بنیاد پر کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید میری اس بات ہی سے کسی ایسے سفر کا آغاز ہوگیا تھا جس کا مجھے خود بھی علم نہیں تھا۔

کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ شاید میرے رب کو اپنے ایک نیک بندے کے بارے میں میرا وہ انداز پسند نہ آیا ہو اور گویا میرے لیے یہ راستہ کھولا گیا ہو کہ:

’’تمہیں ان کی سمجھ نہیں آتی؟ تو آؤ، تمہیں سمجھایا جائے کہ یہ کون ہیں۔‘‘

میں اسے کوئی الٰہی دعویٰ یا یقینی حقیقت نہیں کہتا۔ یہ صرف میرا ذاتی روحانی احساس ہے، جو آج اپنے پورے سفر کو دیکھنے کے بعد میرے دل میں پیدا ہوتا ہے۔


میرے استاد جی

اس سفر میں اگر کسی انسان کو سب سے اہم ذریعہ قرار دوں تو وہ میرے بچپن کے دینی استاد ہیں، جنہیں میں ہمیشہ ’’استاد جی‘‘ کہتا آیا ہوں۔

ان کا نام علامہ حافظ محمد بلال سہروردی ہے۔

وہ عالمِ دین، امام و خطیب ہیں اور بچپن سے میری دینی تعلیم و تربیت میں ان کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔

اگرچہ بچپن میں مختلف جگہوں سے دینی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، لیکن عملی زندگی میں دینی مسائل، سوالات اور رہنمائی کے لیے جس شخصیت کی طرف میں سب سے زیادہ رجوع کرتا رہا، وہ استاد جی ہی تھے۔

آج بھی میرے موبائل میں ان کا نمبر ’’استاد جی‘‘ کے نام سے محفوظ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ نام بھی میں نے خود محفوظ نہیں کیا تھا؛ استاد جی نے خود اپنے ہاتھ سے اپنا نمبر میرے فون میں ’’استاد جی‘‘ کے نام سے محفوظ کیا تھا اور آج تک وہ اسی نام سے محفوظ ہے۔ میں دوسروں سے بھی ان کا تعارف اکثر اسی محبت بھرے نام سے کرواتا ہوں۔

استاد جی نے میری زندگی میں آنے والی دینی تبدیلیوں کو محسوس کرلیا تھا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ میری سوچ اور دینی رجحان میں بڑی تبدیلی آرہی ہے۔

انہوں نے مجھے ڈانٹنے یا سختی سے روکنے کے بجائے سمجھایا، میرے ساتھ گفتگو کی اور مجھے کئی معاملات پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیا۔

پھر ایک دن انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا۔

یہ ملاقات میرے سفر کا ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوئی۔


ایک کتاب اور دو سی ڈیز

استاد جی نے مجھے ایک کتاب اور دو سی ڈیز دیں۔

کتاب کا نام تھا:

’’ایمان کا مرکز و محور‘‘

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ان دو سی ڈیز میں بھی ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کے خطابات تھے۔

کتاب اور سی ڈیز دیتے ہوئے استاد جی نے مجھ سے کہا:

’’اگر اپنا عقیدہ درست رکھنا ہے تو ان کو سنو اور پڑھو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم ان کی تحریک جوائن کرو یا ان کے ساتھ جڑو۔ میں خود بھی منہاج القرآن کا ممبر نہیں ہوں۔‘‘

میرے لیے اس بات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

استاد جی نے مجھے منہاج القرآن میں شامل نہیں کروایا تھا۔ انہوں نے علم کا ایک دروازہ میرے سامنے کھولا تھا۔

آگے چلنا یا نہ چلنا میرے اوپر چھوڑ دیا تھا۔

اور مجھے استاد جی پر اتنا اعتماد تھا کہ ان کی دی ہوئی چیز کو سنجیدگی سے لینا میرے لیے بالکل فطری تھا۔

میں نے کتاب پڑھنا شروع کردی۔

سی ڈیز سننا شروع کردیں۔

اور پھر ایک نیا سفر شروع ہوگیا۔


تین مختلف علمی ذرائع

اس دور میں میں تین معروف علماء کو مختلف مقاصد کے لیے سنتا تھا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کو خصوصاً عقائد اور فکری و علمی موضوعات کے حوالے سے سنتا تھا۔

مولانا طارق جمیل صاحب کے خطابات اللہ تعالیٰ سے تعلق، روحانی کیفیت، توبہ اور گریہ و زاری جیسے موضوعات کے حوالے سے سنتا تھا۔

اسی طرح مولانا محمد عمران عطاری صاحب سے سنت، روزمرہ دینی معاملات اور عملی دینی رہنمائی سے متعلق گفتگو سنتا تھا۔

میرے ذہن میں ان شخصیات کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ ہر ایک سے میں کسی مخصوص پہلو میں فائدہ حاصل کررہا تھا۔

لیکن وقت کے ساتھ ایک تبدیلی آئی۔

مجھے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کے خطابات میں وہ روحانی موضوعات بھی ملنے لگے جن کے لیے میں دوسرے علماء کو سنتا تھا۔ پھر سنت، کردار، عبادات اور عملی دین سے متعلق بھی ان کا وسیع علمی ذخیرہ میرے سامنے آتا گیا۔

رفتہ رفتہ میری سماعت کا مرکز ایک شخصیت بنتی چلی گئی:

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری۔

اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میں انہیں تقریباً روزانہ سننے لگا۔


سوالات، اعتراضات اور میری اپنی تحقیق

اسی دوران انٹرنیٹ کے ذریعے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کے بارے میں موجود مختلف اعتراضات، الزامات اور منفی مواد میرے سامنے آنا شروع ہوگیا۔

میں نے ان چیزوں سے آنکھیں بند نہیں کیں۔

میں نے انہیں پڑھا، سوالات کیے اور تحقیق کی۔

دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جس طرح سوالات اور اعتراضات میرے سامنے خود آتے گئے، اسی طرح ان کے جوابات، اصل سیاق و سباق اور متعلقہ حقائق بھی میری اپنی تحقیق کے دوران سامنے آتے گئے۔

کوئی منہاج القرآن کا کارکن میرے پاس بیٹھ کر مجھے قائل نہیں کررہا تھا۔

کوئی بعد میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ:

’’میں نے صارم کو فلاں اعتراض کا جواب دے کر مطمئن کیا تھا۔‘‘

میں خود پڑھ رہا تھا، خود سوال کررہا تھا، خود مختلف پہلو دیکھ رہا تھا اور خود نتیجہ اخذ کررہا تھا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اعتراضات نے میری محبت کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا۔

تحقیق کے ساتھ میرا فکری اعتماد بڑھتا گیا اور اس کے ساتھ ایک اور چیز بہت تیزی سے بڑھنے لگی:

محبت۔


انہیں دیکھنے کی تڑپ

ڈاکٹر صاحب کو مسلسل سنتے سنتے ایک وقت آیا کہ صرف ان کے خطابات سننا میرے لیے کافی نہیں رہا۔

میرے اندر ایک شدید خواہش پیدا ہوئی:

مجھے انہیں سامنے دیکھنا ہے۔

میں کسی عہدے کی تلاش میں نہیں تھا۔ میں منہاج القرآن کے کسی تنظیمی نیٹ ورک کا حصہ نہیں تھا۔

مجھے صرف اس شخصیت کو سامنے دیکھنے کی تڑپ تھی جس کے خطابات میرے فکری اور روحانی سفر میں اتنی بڑی تبدیلی پیدا کرچکے تھے۔

یہ تڑپ بڑھتی گئی۔

اور بالآخر یہی تڑپ مجھے لاہور لے گئی۔


لاہور — اگست 2014

17 جون 2014 کے سانحۂ ماڈل ٹاؤن اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے دوران ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب پاکستان واپس آئے۔

10 اگست 2014 کو لاہور میں یومِ شہداء منعقد ہونا تھا۔

بہت سے لوگوں کے لیے اس وقت حالات سیاسی تھے۔

میرے لیے معاملہ بالکل مختلف تھا۔

مجھے نہ انقلاب کی سیاست کا مکمل علم تھا، نہ معلوم تھا کہ آگے کیا منصوبہ ہے اور نہ میں کسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بن کر لاہور جارہا تھا۔

میرا مقصد بہت سادہ تھا:

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب لاہور میں موجود ہیں اور شاید مجھے انہیں سامنے دیکھنے کا موقع مل جائے۔

اسی دوران استاد جی کے ذریعے میری ملاقات افضل سے ہوئی، جو پاکستان عوامی تحریک سے کسی سطح پر وابستہ تھا۔

دفتر سے چھٹی لینے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ یہاں تک کہ ملازمت کے حوالے سے سخت تنبیہ بھی ہوئی۔

لیکن میرے اندر اس وقت صرف ایک خیال غالب تھا:

مجھے ڈاکٹر صاحب کو دیکھنا ہے۔

اور میں لاہور روانہ ہوگیا۔


پہلی زیارت — 9 اگست 2014

9 اگست 2014 کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں میں نے پہلی مرتبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

وہ گاڑی میں تھے۔

ہمارے درمیان شیشہ تھا۔

یہ شاید چند لمحوں کا منظر تھا۔

لیکن ان چند لمحوں میں مجھے جو کیفیت محسوس ہوئی، اسے آج بھی مکمل طور پر الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔

ایک عجیب سا سکون تھا۔

ایک عجیب سی محبت تھی۔

ایک عجیب سی تکمیل کا احساس تھا۔

میں بس انہیں دیکھتا رہ گیا۔


ایک کیفیت جو آج بھی باقی ہے

اس پہلی زیارت کے بعد سے آج تک اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے مواقع عطا کیے جن کا 2014 میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

مجھے ڈاکٹر صاحب کے قریب بیٹھ کر خطابات سننے، اجتماعی اعتکاف میں انتہائی قریب سے ان کی صحبت سے مستفید ہونے، ان سے گفتگو اور ملاقات کرنے اور ان کے پاس بیٹھ کر محبت و عقیدت سے ان کے قدموں کو چھونے اور تھامنے تک کا موقع ملا۔

کراچی میں میڈیا کی ذمہ داریوں کے دوران ان کے پروگرامز اور خطابات کی میڈیا کوریج کی ذمہ داری ملی۔ یہاں تک کہ پروگرام کے دوران ان کا مائیک لگانے اور درست کرنے جیسی خدمت کا موقع بھی میرے لیے ایک اعزاز رہا۔

لیکن ایک کیفیت آج بھی ویسی ہی ہے۔

جب ڈاکٹر صاحب سامنے خطاب کررہے ہوں تو اکثر میں ان کے الفاظ سے زیادہ انہیں دیکھنے میں کھو جاتا ہوں۔

خطاب ختم ہونے کے بعد اگر کوئی مجھ سے پوچھ لے کہ ڈاکٹر صاحب نے کیا فرمایا تو کئی مرتبہ مجھے تفصیل یاد نہیں ہوتی۔ پھر جب وہی خطاب بعد میں ویڈیو میں دوبارہ سنتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس میں کتنی اہم باتیں کی تھیں۔

لیکن سامنے ہوں تو میں اکثر صرف انہیں دیکھتا رہ جاتا ہوں۔


10 اگست 2014 — وہ اٹھا ہوا ہاتھ

10 اگست 2014 کو یومِ شہداء کے دوران ایک ایسا لمحہ آیا جب ڈاکٹر صاحب نے اپنے ساتھ آگے چلنے والوں سے عزم و وابستگی کا اظہار چاہا۔

میرے لیے اچانک ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوگیا۔

میں انقلاب کے لیے لاہور نہیں آیا تھا۔

میں سیاست کرنے نہیں آیا تھا۔

میں کسی دھرنے کا منصوبہ بنا کر نہیں آیا تھا۔

میں تو صرف انہیں دیکھنے آیا تھا۔

میرے پیچھے کراچی میں خاندان، ملازمت اور ذمہ داریاں تھیں۔

چند لمحوں تک میرے اندر شدید کشمکش رہی۔

پھر میں نے اپنا موبائل فون بند کیا، اسے اپنے بیگ میں رکھا اور…

میں نے ہاتھ اٹھا دیا۔

میرے لیے اس لمحے بات بہت سادہ تھی:

میرے قائد نے پوچھا ہے کہ کون ساتھ چلے گا۔

اور میں نے فیصلہ کرلیا:

میں ساتھ چلوں گا۔

انقلاب مارچ — لاہور سے اسلام آباد

14 اگست 2014 کو انقلاب مارچ لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔

اس وقت میری عمر صرف 21 برس تھی۔

میں تحریک کے باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے سے واقف نہیں تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کراچی کے ساتھی کن گاڑیوں میں ہیں یا پورا انتظامی نظام کیسے کام کرتا ہے۔

میں اور افضل راستہ تلاش کرتے ہوئے مختلف گاڑیوں اور ٹرکوں کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔

اسی سفر میں میری ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی جن کا نام میری اس کہانی میں بہت اہم ہے:

خرم سعیدی صاحب۔

ایک طویل حصہ میں نے ٹرک کے اوپری حصے کی ریلنگ/پائپ پر بیٹھ کر طے کیا۔

جوانی تھی، جوش تھا اور ایک عجیب سا جنون تھا۔

چونکہ ہمارا ٹرک کئی مواقع پر مرکزی قافلے سے کچھ فاصلے آگے چل رہا تھا، اس لیے مجھے راستے میں وہ مناظر دیکھنے کا موقع ملا جو آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔

مختلف شہروں میں لوگ پھول لے کر قافلے کا انتظار کررہے تھے۔ کئی مقامات پر دور دور تک لوگ کھڑے تھے۔ بلند مقامات اور پہاڑی علاقوں تک لوگ قافلے کے انتظار میں موجود تھے۔

میں لاہور اپنے دل میں اپنے قائد کی محبت لے کر گیا تھا۔

اس سفر میں مجھے ہزاروں دوسرے لوگوں کی آنکھوں میں بھی وہ محبت، امید اور انتظار دیکھنے کا موقع ملا۔


اسلام آباد اور ڈی چوک

بالآخر ہم اسلام آباد پہنچ گئے اور انقلاب مارچ ایک طویل دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔

وہاں گزارے گئے دن میرے لیے ایک الگ تربیت تھے۔

ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ جب میں ڈاکٹر صاحب کے خطابات سامنے کھڑے ہوکر سنتا تو اکثر اپنے چہرے پر جھنڈا لپیٹ لیتا تاکہ کہیں ٹی وی کیمرے میں میرا چہرہ نہ آجائے اور گھر والے مجھے دیکھ کر پریشان نہ ہوجائیں۔

لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ میرے والدین تو پہلے ہی شدید پریشان تھے۔

اس وقت ہمارے گھر میں نیوز چینلز کی باقاعدہ سہولت نہیں تھی۔ میری والدہ اور والد مختلف لوگوں کے گھروں میں جاکر خبریں دیکھا کرتے تھے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے اور میں خیریت سے ہوں یا نہیں۔

میں انہیں پریشانی سے بچانے کے لیے اپنا چہرہ چھپا رہا تھا۔

اور وہ میری خبر حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ خبریں دیکھ رہے تھے۔


30 اگست 2014 کی رات

30 اگست 2014 کی رات حالات انتہائی سنگین ہوگئے۔ مظاہرین کے وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس میں آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور لاٹھی چارج کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ان دنوں خرم سعیدی صاحب کے بچوں کے ساتھ میری خاصی انسیت ہوگئی تھی۔

جب آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہوئی تو میں نے اپنے پاس موجود حفاظتی چیزیں، ماسک، پانی وغیرہ بچوں کے حوالے کردیں۔

اسی دوران خرم سعیدی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں بچوں کو خطرناک علاقے سے باہر نکالنے میں ان کی مدد کروں۔

میں ان کے ساتھ نکل گیا۔

بچوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے بعد میرا پہلا ردِعمل تھا:

مجھے واپس اپنے ساتھیوں کے پاس جانا ہے۔

میں واپس جانے لگا لیکن خرم سعیدی صاحب نے مجھے روک دیا۔

اس وقت داخلی راستے پر حالات انتہائی خراب ہوچکے تھے۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ اگر میں اندر اپنے ساتھیوں تک پہنچ سکتا تو وہ مجھے ضرور جانے دیتے، لیکن موجودہ حالات میں خطرہ یہ تھا کہ میں باہر ہی زخمی ہوکر کہیں پڑا رہوں اور اندر میرے کسی ساتھی کو معلوم بھی نہ ہو کہ میں کہاں ہوں۔

میں نے اصرار کیا۔

انہوں نے سختی سے منع کیا۔

آخرکار مجھے ان کی بات ماننا پڑی۔


ایک فیصلہ جس کی اہمیت بعد میں سمجھ آئی

زندگی میں بعد میں کئی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ بعض اوقات کسی جگہ جانے سے روک دیا جانا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔

آج جب میں اس واقعے کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو خرم سعیدی صاحب کا مجھے اس وقت واپس جانے سے روکنا اپنے لیے بہت اہم محسوس ہوتا ہے۔

اگر، خدا نخواستہ، میں دوبارہ اندر پہنچ جاتا اور وہاں ہونے والی شدید شیلنگ، گرفتاریوں اور افراتفری کے دوران زخمی ہوجاتا، ربڑ کی گولی لگ جاتی، ہسپتال پہنچ جاتا یا کسی دوسری سنگین صورتحال میں پھنس جاتا تو شاید میرے لیے اس کے اثرات مختلف ہوتے۔

میں اس وقت تحریک کے باقاعدہ تنظیمی نیٹ ورک کا حصہ نہیں تھا۔ مجھے تنظیمی ڈھانچے اور پورے مشن کی وہ گہری سمجھ بھی حاصل نہیں تھی جو بعد کے برسوں میں پیدا ہوئی۔

میں محبت، جذبے اور ایک نئے تعلق کے جوش کے ساتھ وہاں پہنچا تھا۔

ممکن تھا کہ کسی انتہائی سخت تجربے کے بعد میں خود دل برداشتہ ہوجاتا یا میرے والدین اور اہلِ خانہ خوف اور پریشانی میں مجھے دوبارہ ایسی سرگرمیوں میں جانے سے سختی سے روک دیتے۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔

میں خیریت سے رہا اور میرے لیے یہ تجربہ میرے تعلق کو توڑنے کے بجائے آگے کے سفر کا حصہ بن گیا۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ جو زخمی ہوئے، ربڑ کی گولیاں کھائیں، گرفتار ہوئے، جیلوں میں گئے یا شدید مشکلات سے گزرے، وہ کسی طرح پیچھے ہٹ گئے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے انتہائی ثابت قدمی، قربانی اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔

میری بات صرف اپنی ذات اور اپنی اس وقت کی ذہنی و تنظیمی کیفیت کے بارے میں ہے۔

آج مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس مرحلے پر محفوظ رہنا ہی میرے لیے آگے کے سفر کو جاری رکھنے کا ایک ذریعہ بنا۔


2 ستمبر — دھرنے میں واپسی اور راؤ طیب سے پہلی ملاقات

30 اگست کی رات خرم سعیدی صاحب کے ساتھ وہاں سے نکلنے کے بعد حالات کی شدت کے باعث میں دوبارہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس نہیں آسکا۔

دل مسلسل وہیں لگا ہوا تھا۔

بالآخر 2 ستمبر 2014 کو میں دوبارہ دھرنے میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پہنچا۔

اسی روز پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے، اس کی بیرونی دیوار کے قریب، خرم سعیدی صاحب نے میری پہلی ملاقات راؤ طیب صاحب سے کروائی۔

خرم سعیدی صاحب نے میرا تعارف کرواتے ہوئے خصوصاً میرے سوشل میڈیا کے کام کا ذکر کیا اور انہیں بتایا کہ یہ نوجوان سوشل میڈیا پر بہت کام کرتا ہے۔

اسی مقام پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے راؤ طیب صاحب کے ساتھ میری ایک تصویر بھی بنی۔

اس وقت شاید مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک مختصر سی ملاقات آگے چل کر میرے تنظیمی سفر میں بھی ایک اہم تعلق بن جائے گی۔


6 ستمبر 2014 — کراچی واپسی

کچھ مزید دن دھرنے میں گزارنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اب اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی طرف واپس جانا چاہیے۔

بالآخر 6 ستمبر 2014 کو میں اسلام آباد سے کراچی واپسی کے لیے روانہ ہوگیا۔

جسمانی طور پر میں کراچی واپس آرہا تھا۔

دل ابھی بھی وہیں تھا۔


’’غازی‘‘ کہہ کر استقبال

کراچی واپس آکر جب میں دفتر پہنچا تو ایک واقعہ آج بھی یاد ہے۔

ہمارے ایک ساتھی تھے جنہیں میں محبت اور احترام سے مصباح بھائی کہتا تھا۔ ان کا پورا نام مصباح الحق تھا۔

دینی معاملات میں ہمارے درمیان بعض اختلافات بھی رہتے تھے اور میری بدلتی ہوئی دینی سمت سے وہ ہمیشہ متفق نہیں تھے۔

لیکن جب میں واپس آیا تو انہوں نے میرا استقبال ایک لفظ سے کیا:

’’غازی!‘‘

اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔


کراچی واپسی — خدمت کا نیا انداز

کراچی واپس آنے کے بعد تحریک کے ساتھ میرا رابطہ ابتدا میں زیادہ تر ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے ذریعے رہا۔

میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا سے پہلے ہی کافی واقف تھا۔ فیس بک، یوٹیوب اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارمز میرے لیے نئے نہیں تھے۔

لہٰذا میں نے اپنی صلاحیت کے مطابق ڈاکٹر صاحب اور تحریک کے پیغام کے لیے آن لائن کام شروع کردیا۔

ٹوئٹر ہیش ٹیگز ہوں، فیس بک پر مواد شیئر کرنا ہو، انقلاب مارچ سے متعلق اپنی روداد ہو یا تحریک کے مختلف پروگرامز— میں اپنی استطاعت کے مطابق ڈیجیٹل طور پر کردار ادا کرتا رہا۔


تنظیمی سفر کا باقاعدہ آغاز

تقریباً 2015 کے دوران کراچی میں مختلف سرگرمیوں اور رابطوں کے ذریعے مقامی تنظیمی ذمہ داران کے ساتھ میرا رابطہ بڑھنے لگا۔

خصوصاً راؤ طیب صاحب کے ساتھ میرا رابطہ قائم ہوا اور رفتہ رفتہ میں ان کے ساتھ تنظیمی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگا۔

کچھ عرصے بعد راؤ طیب صاحب نے ہی مجھے منہاج یوتھ لیگ کراچی کی زونل ٹیم میں شامل کیا۔

یہاں سے میرے سفر کا ایک بالکل نیا مرحلہ شروع ہوا۔

جو تعلق پہلے ذاتی، علمی اور روحانی نوعیت کا تھا، وہ اب باقاعدہ تنظیمی خدمت میں تبدیل ہونے لگا۔


سوشل میڈیا سے تنظیمی ذمہ داریوں تک

منہاج یوتھ لیگ کراچی میں میری ابتدائی نمایاں ذمہ داری سیکرٹری سوشل میڈیا کی تھی۔

بعد میں مختلف تنظیمی ادوار میں:

سیکرٹری سوشل میڈیا → سیکرٹری انفارمیشن → ڈپٹی جنرل سیکرٹری

سمیت مختلف ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع ملا۔

فہیم خان صاحب کی صدارت کے دور میں مجھے ڈپٹی جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔

اسی تنظیمی سفر میں شاہد راجپوت صاحب سمیت بہت سے سینئر اور ساتھی ذمہ داران کے ساتھ کام کرنے اور ان سے تنظیمی امور سیکھنے کا موقع ملا۔


میڈیا، منہاج ٹی وی اور کراچی بھر میں خدمت

میرا تنظیمی سفر صرف منہاج یوتھ لیگ تک محدود نہیں رہا۔

مجھے منہاج میڈیا اکیڈمی اور منہاج ٹی وی کراچی سے متعلق ذمہ داریوں میں بھی شریک رہنے کا موقع ملا۔

مختلف ادوار میں میڈیا مینجمنٹ، الیکٹرانک میڈیا کوریج، پروگرام کوریج اور پبلسٹی سے متعلق ذمہ داریاں ادا کیں۔

اسی کام کی وجہ سے کراچی کے تقریباً ہر تنظیمی ٹاؤن میں جانے، وہاں کے ساتھیوں سے ملنے اور مختلف سطحوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔

رفتہ رفتہ کراچی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں تحریک کے ساتھیوں سے تعارف اور تعلق بنتا گیا۔


ایک تنظیم نہیں، ایک خاندان

تحریک کے ساتھ سفر نے مجھے صرف تنظیمی ذمہ داریاں نہیں دیں بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ایسے مخلص اور محبت کرنے والے لوگ بھی دیے جو وقت کے ساتھ میرے لیے ایک خاندان کی مانند بن گئے۔

ایک مرتبہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر کشمیر کی طرف سفر کرتے ہوئے میں راولپنڈی پہنچا۔ چاند رات تھی اور تاخیر ہوجانے کی وجہ سے آگے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ تقریباً بند ہوچکی تھی۔

اس موقع پر ثاقب بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا، اپنے گھر قیام کی دعوت دی اور میں ان کے ہاں ٹھہرا۔ عید کی نماز بھی راولپنڈی میں ادا کی اور ان کے ساتھ بہت خوبصورت وقت گزارا۔

آج بھی ان کا میرے ساتھ بڑے بھائیوں جیسا محبت بھرا تعلق ہے۔

اسی طرح لاہور کے اجتماعی اعتکاف میں ایک مرتبہ میری طبیعت خراب ہوگئی۔ میرے دوست اویس اسلم کے ذریعے شفقت بھائی کو میری طبیعت کا معلوم ہوا۔

وہ میری عیادت اور تیمارداری کے لیے آئے، میرے لیے کمبل لے کر آئے، کھانے پینے کی چیزیں لائے اور جس محبت سے میرا خیال رکھا، وہ آج بھی مجھے یاد ہے۔

میں اکثر محسوس کرتا ہوں کہ:

شفقت بھائی نے اپنے نام سے بڑھ کر میرے ساتھ شفقت کا معاملہ کیا۔

اس واقعے کے بعد ان کے ساتھ محبت اور تعلق مزید مضبوط ہوتا گیا اور لاہور جانے پر ان سے ملاقات میرے لیے ہمیشہ خاص اہمیت رکھتی ہے۔


مشکل وقت میں اسی خاندان کا سہارا

زندگی کے ایک دور میں مجھے شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

معاملہ میرے لیے اتنا ذاتی اور باعثِ جھجھک تھا کہ میں براہِ راست یہ بھی نہیں لکھ سکتا تھا کہ مجھے خود مالی مدد کی ضرورت ہے۔

میں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ لکھی، لیکن اپنی بات تیسرے شخص کے انداز میں بیان کی۔ میں نے لکھا کہ میرے جاننے والے ایک شخص کو شدید مالی ضرورت درپیش ہے اور اگر کوئی اس کی مدد کرسکتا ہو تو مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ کرے۔

حقیقت یہ تھی کہ:

وہ شخص میں خود تھا۔

اس پوسٹ کے بعد تحریک سے تعلق رکھنے والے متعدد ساتھیوں اور احباب نے مجھ سے رابطہ کیا۔

ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام میں جان بوجھ کر یہاں درج نہیں کررہا، کیونکہ انہوں نے جس خاموشی، خلوص اور رازداری سے میرا ساتھ دیا، مجھے معلوم نہیں کہ ان کی اجازت کے بغیر آج ان کے نام ظاہر کرنا مناسب ہوگا یا نہیں۔

ان ساتھیوں نے مجھے قرض کی صورت میں بڑی مالی مدد فراہم کی اور میری زندگی کے ایک بڑے مسئلے کو حل کرنے میں میرا سہارا بنے۔

میرے لیے وہ محض قرض نہیں تھا۔

وہ میرے مشکل وقت میں میرے لوگوں کی طرف سے ملنے والی مدد تھی۔

قرض واپس کرنے کے لیے میں نے جو مدت سوچی تھی، بعض معاملات میں اس سے زیادہ وقت لگا، لیکن ان لوگوں نے تحمل، اعتماد اور صبر کا مظاہرہ کیا۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بالآخر میں ان تمام لوگوں کے قرض مکمل طور پر ادا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

رقم واپس ہوگئی، لیکن اس وقت کی محبت اور احسان آج بھی میرے دل میں موجود ہے۔

ثاقب بھائی کی میزبانی ہو، شفقت بھائی کی تیمارداری ہو، مالی مشکل میں ساتھیوں کا خاموشی سے سہارا بننا ہو یا پاکستان کے مختلف شہروں میں بے شمار ساتھیوں کی محبت— یہ سب میرے لیے ایک ہی حقیقت کی مختلف صورتیں ہیں:

میرے لیے یہ صرف ایک تنظیم نہیں رہی؛ یہ ایک خاندان بن چکا تھا۔

اور ان کے علاوہ بھی نہ جانے کتنے نام اور کتنی یادیں ہیں جنہیں ایک صفحے میں سمیٹنا ممکن نہیں۔

کچھ رشتے عہدوں اور تنظیمی چارٹس میں درج نہیں ہوتے، لیکن انسان کی زندگی میں ان کی جگہ کسی عہدے سے کہیں زیادہ بڑی ہوتی ہے۔


اجتماعی اعتکاف کی ایک دلچسپ یاد

لاہور میں اجتماعی اعتکاف کے دوران کئی مرتبہ لوگ آتے، بڑی محبت سے سلام کرتے اور خیریت دریافت کرتے۔

میں جواب دیتا، محبت سے گفتگو کرتا، لیکن کئی مرتبہ حقیقت یہ ہوتی تھی:

میں انہیں جانتا ہی نہیں تھا۔

مجھے اندازہ ہوجاتا تھا کہ شاید وہ مجھے سوشل میڈیا یا تنظیمی کام کے ذریعے جانتے ہیں، اس لیے یہ پوچھنا اچھا نہیں لگتا تھا کہ:

’’آپ کون ہیں؟‘‘

ایک مرتبہ اسی طرح چند لوگ مل کر گئے تو میرے ساتھ موجود مرزا جنید علی صاحب (ناظم تحریک منہاج القرآن کراچی) نے مجھ سے پوچھا:

’’یہ کون تھے؟‘‘

میں نے جواب دیا:

’’پتا نہیں۔‘‘

یہ ایک مزاحیہ لمحہ بن گیا کہ لوگ مجھے جانتے تھے لیکن میں انہیں نہیں جانتا تھا۔

میرے لیے اس کا مطلب شہرت نہیں تھا۔ اصل خوبصورتی یہ تھی کہ تحریک کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں ایسے لوگ اپنے بن چکے تھے جن سے شاید میری کبھی باقاعدہ ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔


خدمت کے ذریعے سیکھنے کا سفر

تقریباً 2015 سے اگلے کئی برسوں تک منہاج القرآن اور منہاج یوتھ لیگ میرے لیے ایک عملی تربیت گاہ بن گئے۔

میں نے تنظیمی امور کتابوں سے کم اور لوگوں کے درمیان رہ کر زیادہ سیکھے۔

پروگرامز سے سیکھا، سینئرز سے سیکھا، ٹاؤنز کے ذمہ داران سے سیکھا، میڈیا کی ذمہ داریوں سے سیکھا، سفر سے سیکھا۔

غلطیاں بھی کیں۔

اور ان غلطیوں سے بھی سیکھا۔

رفتہ رفتہ یہ بات سمجھ آئی کہ تنظیمیں صرف عہدوں سے نہیں چلتیں۔

تنظیمیں لوگوں، تعلقات، اعتماد، نظم، تسلسل اور خدمت سے بنتی ہیں۔

تحریک کی جانب سے اعتراف اور اعزازات

تنظیمی، میڈیا اور دیگر ذمہ داریوں کے اس سفر میں تحریک کی طرف سے میری خدمات کو مختلف مواقع پر سراہا بھی گیا۔

مختلف ادوار میں مجھے اعزازات، ایوارڈز، اسناد اور تعریفی کلمات سے نوازا گیا، جنہیں میں کسی ذاتی کامیابی سے زیادہ اس مشن کے لیے اپنی محدود سی کوششوں کی حوصلہ افزائی سمجھتا ہوں۔

میرے لیے ان اعزازات کی اصل اہمیت یہ نہیں کہ مجھے کوئی ایوارڈ ملا، بلکہ یہ ہے کہ جن لوگوں اور جس مشن کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ گزارا، انہوں نے میری کوششوں کو قبولیت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

نمایاں اعزازات و ایوارڈز

[تفصیلات بعد میں شامل کی جائیں گی]


کچھ عرصہ عملی سرگرمیوں سے پیچھے

وقت کے ساتھ میری پیشہ ورانہ اور دیگر ذمہ داریاں بڑھتی گئیں۔

تقریباً 2024 کے بعد میں تنظیمی سرگرمیوں میں پہلے کی نسبت کم فعال ہونے لگا۔

خصوصاً 2025 سے 2026 کے وسط تک میری پیشہ ورانہ مصروفیات اتنی بڑھ گئیں کہ میں تحریک کو اتنا وقت نہیں دے پا رہا تھا جتنا کبھی دیا کرتا تھا اور جتنا دل چاہتا تھا۔

میں عملی سرگرمیوں سے کچھ پیچھے ہوگیا تھا۔

لیکن تعلق ختم نہیں ہوا تھا۔

محبت ختم نہیں ہوئی تھی۔

مشن سے وابستگی ختم نہیں ہوئی تھی۔

شاید مجھے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ میرے لیے ایک نیا باب تیار ہورہا ہے۔


ایک نیا باب — اگست 2026

اگست 2026 میں حالات نے ایک مرتبہ پھر مجھے منہاج یوتھ لیگ کراچی کی فعال تنظیمی ذمہ داریوں کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔

مجھے صدر منہاج یوتھ لیگ کراچی کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے کہا گیا۔

میرا ابتدائی ردِعمل ہچکچاہٹ کا تھا۔ میں اس ذمہ داری کو بہت بڑا سمجھتا تھا اور خود کو اس کا مستحق نہیں سمجھ رہا تھا۔

اس سے قبل راؤ طیب صاحب نے بھی فون پر گفتگو کرتے ہوئے مجھے آگے بڑھ کر بڑی تنظیمی ذمہ داری قبول کرنے کی ترغیب دی تھی۔

بعد ازاں شاہد راجپوت صاحب، فیضان کلیم صاحب اور بالخصوص مرکزی صدر منہاج یوتھ لیگ پاکستان رانا وحید شہزاد صاحب نے مجھے دوبارہ فعال کردار ادا کرنے اور صدارت کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

میری ہچکچاہٹ کے باوجود مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور بالآخر میں نے یہ ذمہ داری قبول کرلی۔

یوں اگست 2026 میں میرے تنظیمی سفر کا ایک نیا باب شروع ہوا:

صدر — منہاج یوتھ لیگ کراچی

میرے لیے یہ صرف ایک نیا عہدہ نہیں تھا۔

یہ اس سفر کا ایک نیا مرحلہ تھا جس کی ابتدا کبھی ایک ایسے جملے سے ہوئی تھی:

’’مجھے ان کی سمجھ نہیں آتی۔‘‘

کبھی میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کو جانتا تک نہیں تھا۔

پھر استاد جی نے ایک کتاب اور دو سی ڈیز میرے ہاتھ میں رکھیں۔

میں نے سننا شروع کیا۔

پڑھنا شروع کیا۔

سوال کیے۔

تحقیق کی۔

محبت پیدا ہوئی۔

انہیں دیکھنے کی تڑپ پیدا ہوئی۔

لاہور پہنچا۔

9 اگست 2014 کو پہلی مرتبہ انہیں سامنے دیکھا۔

10 اگست کو اپنا موبائل بند کرکے بیگ میں رکھا اور ہاتھ اٹھا دیا۔

14 اگست کو لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوگیا۔

انقلاب مارچ کے دن دیکھے۔

پھر کراچی واپس آکر سوشل میڈیا سے خدمت شروع کی۔

تنظیمی ذمہ داریاں ملیں۔

میڈیا میں کام کیا۔

کراچی کے ٹاؤنز میں سفر کیا۔

پاکستان بھر میں تحریک کے ساتھیوں کی محبت ملی۔

کچھ عرصہ عملی سرگرمیوں سے پیچھے ہوا۔

اور پھر…

اگست 2026 میں اسی سفر نے مجھے منہاج یوتھ لیگ کراچی کی صدارت کی ذمہ داری تک پہنچا دیا۔


صدارت — تسلسل کے ساتھ ایک نئی شروعات

صدر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد میری اولین ترجیحات میں سے ایک یہ تھی کہ نئی ٹیم بنانے کا مطلب پرانے تجربے اور ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ کر صفر سے آغاز کرنا نہ ہو۔

میری خواہش تھی:

تجربہ بھی ساتھ چلے، تسلسل بھی برقرار رہے اور نئے نوجوانوں کے لیے جگہ بھی پیدا ہو۔

اسی سوچ کے تحت سابقہ ٹیم کے تجربہ کار ساتھیوں سمیت تمام ساتھیوں کو نئی تنظیمی ساخت میں ساتھ رکھنے کی کوشش کی گئی، جبکہ ان کے ساتھ نئے، متحرک اور باصلاحیت نوجوانوں کو بھی ٹیم میں شامل کرکے ذمہ داریاں دی گئیں۔

مقصد ایک ایسی ٹیم تشکیل دینا تھا جس میں سابقہ تجربہ، موجودہ تسلسل اور نئی نوجوان قیادت—تینوں ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔


18 اگست 2026 — ایک نئی ٹیم، ایک مشترکہ سفر

18 اگست 2026 کو شاندار شنواری ریسٹورنٹ، گلشنِ اقبال، کراچی میں منہاج یوتھ لیگ کراچی کے ذمہ داران، مختلف ٹاؤنز کے ذمہ داران، سابق و سینئر ساتھیوں اور نوجوانوں کے ساتھ ایک بامقصد Get-Together & Dinner منعقد کیا گیا۔

اس نشست کا مقصد محض ایک عشائیہ نہیں تھا۔

یہ سابقہ ٹیم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے، نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے ساتھیوں کو مبارکباد دینے، سینئر ساتھیوں کے تجربے اور رہنمائی سے فائدہ اٹھانے، نئے نوجوانوں کو ساتھ جوڑنے اور کراچی میں منہاج یوتھ لیگ کے آئندہ تنظیمی سفر پر تبادلۂ خیال کا موقع تھا۔

گزشتہ تنظیمی دور میں خدمات انجام دینے والے فیضان کلیم صاحب اور پوری سابقہ ٹیم کی خدمات کو سراہا گیا، جبکہ نئے مرحلے میں تجربے اور تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے نئے نوجوانوں کو بھی آگے لانے کی کوشش کی گئی۔

اس پورے عمل کے پیچھے ایک بنیادی سوچ تھی:

جو پہلے خدمت کرچکے ہیں، ان کے تجربے کی قدر کی جائے۔
جو آج خدمت کررہے ہیں، انہیں مضبوط کیا جائے۔
اور جو کل قیادت کریں گے، ان کے لیے آج سے جگہ بنائی جائے۔

سفر ابھی جاری ہے…

صدر منہاج یوتھ لیگ کراچی کی ذمہ داری سنبھالنا میرے اس سفر کا اختتام نہیں۔

یہ اس سفر کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

2014 میں میں منہاج القرآن کے کسی شخص کو نہیں جانتا تھا۔

آج اسی تحریک کے نوجوانوں کی کراچی سطح پر خدمت کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ہے۔

میرے لیے یہ سوچ ہی اپنے اندر بہت کچھ رکھتی ہے۔

اس سفر میں جو کچھ اچھا ہوا وہ اللہ تعالیٰ کا فضل، میرے والدین اور اساتذہ کی دعاؤں، میرے قائد کی تربیت، سینئرز کی رہنمائی اور بے شمار ساتھیوں کی محبت کا نتیجہ ہے۔

اور جو کمزوریاں، غلطیاں اور کوتاہیاں رہیں، وہ میری اپنی ہیں۔

میں آج بھی اس سفر کو مکمل نہیں سمجھتا۔

میں آج بھی خود کو سیکھنے والا سمجھتا ہوں۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس صفحے کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوگی۔

سفر ابھی جاری ہے…

تازہ سرگرمیوں کو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اب تک کے سنگ میل

لائف ممبر

صارم نور منہاج القرآن کے لائف ممبر ہیں، ایک ایسی تنظیم جو اسلامی اصولوں پر مبنی امن، محبت اور علم کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

2017

منہاج یوتھ لیگ (MYL) کراچی کی جانب سے موسٹ ایکٹو ورکر ایوارڈ (نشانِ وفا)۔

2018

منہاج یوتھ لیگ پاکستان کی جانب سے بیسٹ یوتھ لیڈرشپ ایوارڈ۔

2025

بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ، ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کے ہاتھوں آرٹس کونسل کراچی میں پیش کیا گیا۔

منہاج القرآن اور منہاج یوتھ لیگ سے ملنے والے اعزازات

بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ

2025

صارم نور کو مارچ 2025 میں آرٹس کونسل کراچی میں منعقدہ “بنائے امت سیمینار” میں بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ (حسنِ کارکردگی 2025) ملا۔ یہ ایوارڈ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (صدر، منہاج القرآن انٹرنیشنل) کے ہاتھوں پیش کیا گیا، اور صارم نور کے بطور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور یوتھ لیڈر کام کو تسلیم کرتا ہے۔

آرٹس کونسل کراچی میں پیش کیا گیا، مارچ 2025۔ مکمل تفصیل دیکھیں

بیسٹ یوتھ لیڈرشپ ایوارڈ

2018

صارم نور کو منہاج یوتھ لیگ پاکستان کی جانب سے بیسٹ یوتھ لیڈرشپ ایوارڈ ملا، جو ان کی نوجوان قیادت اور تنظیمی خدمات کو تسلیم کرتا ہے۔

مکمل تفصیل دیکھیں

مزید اعزازات

[مزید اعزازات جلد شامل کیے جائیں گے۔]

مزید دیکھیں

صارم نور کی مکمل سوانح حیات یا عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کے ساتھ ان کے سفر پر جائیں۔

سوانح حیات پر واپس جائیں ACF کا سفر